31 اکتوبر 2026 - 09:53
ایران کے جوہری پروگرام پر ٹرمپ کی پھر بھڑکیں، جنگ مخالف رکنِ کانگریس پر برہمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے سابقہ دعوے دہراتے ہوئے ایران پر فوجی حملوں اور جوہری معاہدے سے امریکی دستبرداری کا دفاع کیا۔ انہوں نے جنگ کی مخالفت اور اس کے اخراجات پر تنقید کرنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے جمعہ کی شب امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ڈیٹونا بیچ میں ریپبلکنز کے انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا اور دعویٰ کیا: ’’ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس کے نتیجے میں ایران کی جوہری خطرہ بننے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔

ٹرمپ نے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنہ کو ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ان کا مواخذہ کرانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رو کھنہ انہیں اس لیے مواخذے کا سامنا کرانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے بقول، انہوں نے ’’اسلامی جمہوریہ ایران کی جوہری صلاحیت ختم کر دی ہے۔

امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات سے متعلق رو کھنہ کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ پر 25 ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں، لیکن ان کے بقول وینزویلا سے امریکہ نے اس رقم سے تقریباً دس گنا زیادہ حاصل کیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے میں مکمل مالی حساب کتاب کو سامنے رکھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی واحد ترجیح یہ ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر 2015ء میں طے پانے والے ایران کے جوہری معاہدے، یعنی برجام (JCPOA) سے امریکی دستبرداری کا دفاع کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ فراہم کر رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو ختم کیا تھا اور اسے ’’خوفناک معاہدہ‘‘ قرار دیا۔

ٹرمپ نے اپنا یہ سابقہ دعویٰ بھی دہرایا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی بلکہ ایران 1979ء سے امریکہ کے ساتھ جنگ کر رہا ہے۔

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے حالیہ دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس وقت سات ماہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل اس آبی گزرگاہ سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے اس دعوے پر زور دیتے ہوئے کہا: ’’ذرا اس بارے میں سوچیں۔

ٹرمپ نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی کے بعد اپنے مواخذے کے خدشے کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ان کا مواخذہ اس لیے کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’کوشش‘‘ کا لفظ استعمال نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ان کے بقول امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، فلوریڈا میں ٹرمپ کی تقریر کے دوران پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں تین مرتبہ خلل پڑا اور بعض حاضرین نے احتجاج کیا۔

ایک موقع پر ایک شخص کی جانب سے تقریر میں مداخلت کیے جانے پر ٹرمپ نے سخت لہجے میں اسے ’’خاموش رہو‘‘ کہا۔

ٹرمپ کے خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام، برجام سے امریکی دستبرداری، ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق ان کے سابقہ دعوے ایک بار پھر دہرائے گئے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha